نئی دہلی،6 ؍اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) لوک جنشتی پارٹی کے حقوق کے لیے تنازعہ اور قانونی جنگ کے درمیان الیکشن کمیشن نے چراغ پاسوان اور ان کے چچا پشوپتی پارس دونوں پارٹیوںکو نئے نام اور انتخابی نشانات دئیے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی ماہ سے تنازعہ چل رہا ہے۔ سابق مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کی موت کے بعد پشوپتی پارس نے اپنے بھتیجے چراغ پاسوان کو ہٹاکر ایل جے پی کے پارلیمانی پارٹی کے رہنما بن گئے تھے، پشوپتی پارس بعد میں مودی حکومت میں مرکزی وزیر بھی بنے۔بعد میں چراغ پاسوان کو بھی ایل جے پی کے صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے پارٹی کے نام اور نشان کے حق کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔
دریں اثنا ضمنی انتخابات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے لوک جن شکتی پارٹی کا نام اور نشان (بنگلہ) بندکردیاہے۔ 31 اکتوبر کو بہار میں دو نشستوں کویشور اور تارا پور پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ لیکن دونوں فریق ایل جے پی پر اپنا حق جتا رہے تھے ، لہٰذا یہ فیصلہ فوری طور پر لیا گیا ہے۔ رام ولاس پاسوان نے سال 2000 میں لوک جن شکتی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چراغ پاسوان کی پارٹی کو نیا نام لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) دیا گیا ہے۔ انہیں ہیلی کاپٹر کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔پشوپتی پارس کو راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کا نام ملا ہے۔ اسے سلائی مشین کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کوضمنی انتخاب کے لیے پیر کو دوپہر ایک بجے تک الگ الگ نام اور نشان دینے کے لیے کہا گیا تھا۔